Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

کنفانی کا ایک خط




 کنفانی کا ایک خط


میں شروع سے ہی جانتا تھا کہ ہر محبت ایک ہورہنے والا فراق ہے۔۔۔

میں ہمارے لیے، ہماری محبت کے لیے اور ہمارے خوابوں کے لیے خوف زدہ ہوا کرتا تھا ______ میں نے ہمارے گرد مضبوط چہار دیواری تعمیر کی تاکہ جدائ کا کوئ تیر اس سے پار نہ ہوسکے، تاکہ ہم پر کوئ لعنت فراق نہ آسکے ______ اور ایک دن میں نے دیکھا کہ کچھ تیر میرے جگر کے پار ہوچکے ہیں، میں نے دیکھا کہ ان کا رخ میرے طرف پھیرنے والی تم ہی ہو ______ کاش!! میں نے باہری دشمن کے خوف سے وہ مضبوط احاطہ نہ بنایا ہوتا؛ کیوں کہ میرا واحد دشمن میرے سامنے تھا، وہی جس سے مجھے محبت تھی۔



‏محبت اُس سے کرو جسے پانا ممکن ہو


 ‏محبت اُس سے کرو جسے پانا ممکن ہو۔

اُس سے نہ کرو جس سے خواب میں بھی ملنا ممکن نا ہو۔ کیوں کہ ادھوری محبت انسان کو اکثر آدھا پاگل بنا دیتی ہے۔ اور یہ عمر بھر کی کسی ذہنی اذیت سے کم نہیں ہے۔🔥



یہ مسکراہٹیں، ہنسی مذاق ، motivation والے ڈائیلاگ، یہ سب صرف دکھاوا ہے




 یہ مسکراہٹیں، ہنسی مذاق

، motivation 

والے ڈائیلاگ، یہ سب صرف دکھاوا ہے

 سچ تو یہ ہے کہ ہم سب کہیں نہ کہیں اُکتائے ہوئے ہیں

کوئی خود سے کوئی باقی لوگوں سے

اور کوئی اپنی زندگی سے

اور زندگی سے بیزاری کچھ اس قدر ہے کہ جی بھی نہیں رہے

بس اسے گزار رہے ہیں اور یہ بھی مشکل لگ رہا ہے



اگر الله نے آپ کو رزق کی تنگی دینی ہے تو وہ تب بھی دے دے گا جب آپ کی چار فیکٹریاں ہوں گی-



 اگر الله نے آپ کو رزق کی تنگی دینی ہے تو وہ تب بھی دے دے گا جب آپ کی چار فیکٹریاں ہوں گی- کیا کر لیں گے آپ اگر چاروں فیکٹریز میں ایک ہی وقت آگ لگ جائے- عمارتیں گر جائیں یا کچھ اور ہو جائے- ہم کتنے ہی بند کیوں نہ باندھ لیں، اگر سیلاب کے پانی کو ہم تک آنا ہے تو وہ سارے بند توڑ کر آ جائے گا- اگر ہماری قسمت میں پانی ایک قطرہ لکھا ہے ایک گھونٹ نہیں تو ہم دریا کے کنارے بیٹھ کر بھی ایک قطرہ ہی پی سکیں گے، ایک گھونٹ نہیں



ان سب کے نام جو کہیں کسی کونے میں اپنی سرخ آنکھوں کو مزید رگڑتے ہیں تاکہ اپنے آنسو چھپا سکیں



 ان سب کے نام جو کہیں کسی کونے میں اپنی سرخ آنکھوں کو مزید رگڑتے ہیں تاکہ اپنے آنسو چھپا سکیں 


خود کو کسی اور کی آنکھوں سے دیکھنے کا آرزو مند مت بناؤ ۔۔۔ اٹھو ! اور آئینے میں دیکھو ۔۔۔ تم بے حد مکمل اور خوبصورت ہو ۔۔۔۔ !! بغیر کسی اور سے ستائش کا میڈل وصول کئے 


گر تم ہر وقت اس انتظار میں ہو کہ وقت آئے گا اور سب کچھ ہو جائے گا ۔۔۔ اور اسی انتظار میں تم مزید خود ترسی کا شکار ہوتے جا رہے ہو ۔۔۔ تو دیکھو ! تم لوگوں کو اور حالات کو خود پہ مکمل حاوی کر رہے ہو ۔۔۔ وقت تمہارا انتظار نہیں کرے گا ۔۔۔ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا سیکھو 


لوگوں سے محبت ' پرواہ اور توجہ کی طلب تمہیں مزید بھوکا اور محروم کرتی جائے گی ۔۔۔۔ لوگوں میں محبت بانٹنا سیکھو ۔۔۔۔ اسے بڑھاتے جاؤ ۔۔۔۔ کبھی مانگنا نہیں پڑے گی


سیکھو ! یہ کہ کب کب پرواہ کرنی ہے ۔۔۔ اور کب کب نہیں کرنی ۔۔۔۔ لوگ تمہیں تکلیف دیں تو انھیں بتاؤ ۔۔۔۔۔ وہ پھر بھی تمہیں تکلیف دیں ۔۔۔ تو ان سے کنارہ بہتر ہے ۔۔۔ بغیر کسی شکوے اور نفرت کے ۔۔۔ انسانوں کو انسان ہونے کا مارجن دو ۔۔۔ 


زندگی بے حد مختصر ہے ۔۔۔ اسے روتے ہوۓ مت گزارو ۔۔۔ یعنی تمہارا دل کرے کہ تم کسی گانے پہ ناچ اٹھو تو یہ مت سوچنا کہ سب ہنسیں گے ۔۔۔۔ ہنستے ہوۓ کر گزرو 


تمہیں بھوک لگے اور کچھ کھانا چاہو ۔۔۔ تو اس ڈر سے ہاتھ مت روکو کہ تم اچھے نہیں لگو گے ۔۔۔۔ کسی ہوٹل میں کسی کونے میں بیٹھی کسی لڑکی کو فاقہ زدہ حالت میں دیکھو جب کہ اس کے سامنے ہر طرح کے کھانے پڑے ہوں اور سب لوگ کھا رہے ہوں ۔۔ اسے جا کے بتاؤ کہ وہ بے حد مکمل اور خوبصورت ہے ۔۔۔۔ ! اور ہمیشہ ایسی ہی رہے گی ۔۔۔ !! دیکھنا وہ مسکرا دے گی 


تمہاری ماں نے تمھارے لئے بہت سے خواب دیکھے ۔۔۔ بہت عرصہ اس نے بہت تکالیف اٹھا کے تمہیں پالا ۔۔۔ اس لئے نہیں کہ تم کسی سے لی جانے والی تکلیف کا بدلہ اس پہ چیخ چلا کے نکالو ۔۔۔۔ محبتوں کو محبت دینا سیکھو ۔۔۔۔ 


تم ہمیشہ ہر چیز میں مکمل نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔ خیر ہے ۔۔۔ نامکمل ہونا بھی خوبصورت ہے ۔۔۔ لوگوں سے ہر چیز کی معافی مانگنا اور خود پہ ترس کھانا بند کر دو ۔۔۔۔ 


کوئی بھی تمہیں زندگی کے معنی نہیں بتائے گا ۔۔۔۔ یہ تم ہو جو اپنا سفر خود طے کرو گے ۔۔۔۔ خوش اور زندہ دل لوگ اپنی زندگی کے معنی خود بناتے ہیں ۔۔۔ اور لوگ ان سے زندہ رہنا سیکھتے ہیں ۔۔۔۔ 


!زندہ رہو 




لوگ اس لیے بھی ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں کہ بہت بار




 لوگ اس لیے بھی 

ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں 

کہ بہت بار 

ان کے بہت عزیز ساتھی بھی 

ان کی بات نہیں سن رہے ہوتے

 یا پھر ان کو

 یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ

 اگر تم کسی انسان سے

 اپنے مسائل 

بیان کرنے لگو گے تو 

تم کمزور ہو۔۔۔۔

اگلا انسان خوف

 اور شرمندگی سے ہی

 سب کچھ

 اپنے دل پہ برداشت کرتا رہتا ہے 

اور شدید حالتوں میں

 جان تک لے لیتا ہے۔۔۔۔۔۔ 

کیوں؟  

کیونکہ اس کے پاس 

کوئی ایسا نہیں

 جو سنے 

اور دل جوئی کرے۔۔۔ 


اب اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ 

نہیں جی

 اللہ سے کہنا چاہیے سب۔۔۔۔

اللہ سب جانتا ہے۔۔۔ 

بے شک وہ جانتا ہے۔۔

 وہ قادر ہے وہ السمیع العلیم ہے ۔۔ 

وہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔۔۔ بےشک ۔۔۔۔بے شک۔۔۔

مگر اس نے زمین پے

 اپنا نائب تو

 انسان ہی کو بنایا ہے۔۔

کیا حکم نہیں کہ غمزدہ کے غم بانٹیں۔۔۔

تکلیف میں ہو تو

 تکلیف دور کرنے کی 

کوشش کریں ۔۔۔۔

لیکن یہ دنیا آپ کو

 تب تک محبت یا عزت نہیں دیتی

 جب تک 

آپ اسی قاتلانہ سوچوں سے

 قتل نہیں ہوجاتے۔۔۔۔۔

تب ایک دم سے 

محبتیں پھوٹ پڑتی ہیں ۔۔

 ہر کوئی ہمدردی دکھاتا ہے۔۔۔

بقول شاعر 

"حال نہ پوچھا جیتے جی 

عرس کریں گے مرنے پر

اس لیے

 دکھیاروں کی دل جوئی کی

 کوشش کریں

 جہاں تک ممکن ہو۔ 

انہیں بتائیں کہ

 مسائل سے ملکر نمٹ لیں گے ۔

 تھپکی دیں

 کہ تم اس پریشانی سے 

ضرور نکل آؤ گے۔

 یقین جانیں

 صرف آپ کا یوں محبت دینا ہی

 اگلے کا حوصلہ بڑھا دیتا ہے

سننے والے کان بنیں 

کہ بولنے والے تو ویسے ہی بہت ہیں

اپنا اور اپنے پیاروں کا دھیان رکھیں

 کہیں کوئی

 خود سے لڑتے لڑتے

 ہار نہ جائے! 🌺🌺درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے 




‏عین ممکن ہے کہ حالات کی تلخی ہو کوئی۔


 ‏عین ممکن ہے کہ حالات کی تلخی ہو کوئی۔ 

🌺سب کے سب عشق کے مارے تو نہیں ہوتے ناں🌸


مسترد ہونے کو تم دل پہ لئے بیٹھے ہو۔ 

🌺سب کے سب جان سے پیارے تو نہیں ہوتے ناں🌸



🧡 یا عبادی




🧡 یا عبادی 


یا حرف ندا ہے جو قریب اور بعید دونوں کیلیے استعمال کیا جاتا ہے

یعنی اس یا کے ذریعے جن کو ندا دی دی گئ 

جنہیں پکارا گیا 

وہ عام ہیں تمام مخلوق کیلئے 

اس ندا کو کسی خاص کیلئے مختص نہیں کیا گیا ۔۔۔

حروف ندا اور بھی ہیں مگر ان میں سے کوئی قریب کیلئے اور کوئی بعید کیلیے ہے 

یا کو استعمال کرکے خاص یقین دھانی کرائی گئی ہے 

کہ میری پکار قریب و بعید تمام کیلئے ہے 


عبادی (میرے بندو) یہاں اپنی ربوبیت کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ قریب و بعید ، خاص وعام ، کبیر و صغیر تمام بندوں پر اپنی سرپرستی واضح کردی

ھمیں اپنی سرپرستی میں لے لیا 

جیسے کوئی ماں اپنے بچوں کو پیار سے پکارے 

یا بنی (اے میرے بیٹو)


کس نے ندا دی ؟

رب العالمین نے 

کسے ندا دی ؟

ھم جیسوں گنہگاروں کو جو نجانے دن میں کتنی بار اسی رب کی نا فرمانی کرتے ہیں


آج کوئی محب اپنے محبوب کو "یا حبیبی"  (اے میرے محبوب) کہہ کر پکارے 

وہ قربان جائیگا 

انگ انگ سے سرشاری چھلکتی دکھائی دیگی 

مگر رب جو کئی دفعہ انتھائی محبت سے "یا عبادی" کہہ کر پکار رہا ہے 

ھم کیوں نہیں سنتے 

کیوں ۔۔۔۔۔؟ 





مجھے سہانے خواب نہیں آتے




 مجھے سہانے خواب نہیں آتے


مجھے پرندوں کی میٹھی بولیاں بھی نہیں ازہر

منانا بھی مجھے کٹھن لگتا ہے

روٹھنے والوں کا راستہ بدلنا بھی جان پر بنا دیتا ہے

مجھ میں سو عیب ہیں مانتی ہوں 

_ فقط مجھ سے روٹھا مت کرو

کہ میں منانے کا ہنر کہاں جانتی ہوں ۔ 



اداسیوں کا سبب جو لکھنا تو یہ بھی لکھنا


 اداسیوں کا سبب جو لکھنا تو یہ بھی لکھنا


کہ لوگوں کو لوگوں کی جگہ اور رب کو رب کے مقام پر رکھنا ہوتا ہے۔ جب جب لوگوں کو اٹھا کر رب کی جگہ بٹھائیں گے، انہیں پوجیں گے، خسارہ اٹھائیں گے۔  اللہ انسان کو وہاں سے توڑتا ہے جہاں اللہ کو چھوڑ کر امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں۔  رشتے، کام، پیسہ۔۔۔ جو بھی۔۔۔ امید کا محور بس اللہ ہی رہے۔ 


اداسیوں کا سبب جو لکھنا تو یہ بھی لکھنا۔۔


کہ جتنا روح کے اندر تک کسی کو رسائی آپ دیں گے، اتنی ہی گہرائی سے نقب لگائی جائے گی۔ آپکا سکھ چین، آپکے اندر کا سکون کوئی آپکی نظروں کے سامنے چھین کر لے جائے گا اور آپ کھڑے دیکھیں گے۔ سوچ سمجھ کر دروازہ کھولیں۔ اور بتاؤں کیا؟ نہ کھولیں دروازہ۔ یہی بہتر ہے۔


اداسیوں کا سبب جو لکھنا تو یہ بھی لکھنا


کہ سکون میرے رب کی عطا ہے۔ اسی سے مانگنا ہے۔ اسی نے دینا ہے۔ مانگیں پھر، جھجکتے کیوں ہیں۔ اسکی رحمت اسکے غضب پر بھاری ہے۔ ٹیک دیں ماتھا۔۔۔ 


اداسیوں کا سبب جو لکھنا تو یہ بھی لکھنا 


کہ ایک بار دل سے کہا “الحمد للّٰہ علی کل حال” ہزار بار 


“جب جسم ہی سارا جلتا ہو، پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا” گنگنانے سے بڑھ کر سکون دے گا۔ (ڈونٹ جج می۔ مسکراہٹ) 


اداسیوں کا سبب جو لکھنا تو یہ بھی لکھنا


آنسو بہا لینے میں حرج نہیں۔ صبح سب کے جاگنے سے پہلے جاگیں۔ خاموشی اور تنہائی میں بس ہاتھ اٹھا لیں۔ دل کے درد کو آنسوؤں میں ڈھلنے دیں۔ زبان سے چاہے ایک حرف ادا نہ ہو، اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ خود الجھنے کے بجائے اسے معاملہ سلجھانے دیں۔ 


اداسیوں کا سبب جو لکھنا تو یہ بھی لکھنا 


کہ سبب کچھ بھی ہو، اداسی کا ہر رنگ مجھے میرے رب سے قریب کرے۔ 

اداسیوں کا سبب جو لکھنا تو یہ بھی لکھنا


اداسی بھی ذات کا ایک رنگ ہے۔ اداس ہو جانے میں خیر ہے۔ بس لمبی دیر اداسی ڈیرہ نہ ڈالے۔ مہمان بنے، مکین نہ بننے پائے۔🥀