Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

کسی بھی انسان کی خوبی یا بڑائی کو مان لینا دراصل اللہ کے فیصلے کو ماننا ہے ۔۔۔




 کسی بھی انسان کی خوبی یا بڑائی کو مان لینا دراصل اللہ کے فیصلے کو ماننا ہے ۔۔۔ 

اور یہ بھی انسان کی کوالٹی ہے کہ وہ کسی دوسرے کو ملنے والی نعمت (مال ،اولاد، خوبصورتی ،زہانت ) پر حسد کے بجائے اپنے پاس موجود نعمتوں کو دیکھ کر شکر ادا کرے  ۔۔۔ اور کہے کہ وہ اللہ کی تقسیم پر راضی ہے۔۔۔۔ 

کیونکہ حسد بذات خود ایک بیماری ہے اور یہ انسان کے اندر ناشکرا پن پیدا کرتا ہے۔۔۔۔ 

لیکن جب ہم اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا سیکھ لیتے ہیں کہ ہاں اللہ نے میرے لئے یہی پسند کیا۔۔۔ فلاں چیز کو مجھے  ایسے ہی دینا تھا تو شکوہ ختم ہونے لگتا ہے ۔۔۔ جب شکوہ ختم ہوتا ہے  تو شکر پیدا ہوتا ہے اور شکر ایمان کو بڑھاتا ہے ۔۔۔ اور ایسے لوگ شیطان کے چنگل سے نکلنے لگتے ہیں ۔۔

جب بھی آپکے دل میں ناشکری کے خیالات جنم لینا شروع کریں تو فورا سے الرٹ ہو جائیں ۔۔۔ کیونکہ یہ شیطان کا حملہ ہے آپ پر اور جب دشمن حملہ کرے تو ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر تھوڑی بیٹھا جاتا ہے۔۔۔۔ 

اللہ کے ذکر کی طرف مشغول ہوں ۔۔۔ حملہ شدید ہو تو مصلے پہ کھڑے ہو جائیں ۔۔۔۔ مگر حالت شکر میں ہی رہیں ۔۔۔ صرف اللہ کا ذکر ہی آپکو بچا سکتا ہے ۔۔۔۔۔

خود کو نا شکری کے اندھیروں میں دھکیلیں گے تو ایمان سے بھی جائیں گے ۔۔۔



پتا ہے تم کیوں روتے ہو؟؟




 پتا ہے تم کیوں روتے ہو؟؟


پتا ہے کہ تم کیوں ڈکھی ہوتے ہو؟؟ پتا ہے تم زندگی سے کیوں بیزار ہونے لگتے ہو؟؟ پتا بھی ہے کہ یہ سب تہمارے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے ؟؟


نہیں پتا نا ؟


تبھی تو روتے ہوئے، خدا سے یوں سوال کرتے ہو؛


"کہ یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے!" تمہیں پتا ہے خدا جواب میں تمہیں بھر کے حوصلہ دیتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔


میں تمہیں دنیا سے لڑنے کی ہمت دیتا ہوں۔ تمہیں لوگ یوں پریشان کرتے ہیں، دکھ دیتے ہیں


مجھ سے بھی نہیں دیکھا جاتا۔


پر اسی وجہ سے تم میرے اور قریب آتے ہو۔ تم سجدوں میں جب روتے ہو۔


جب مجھ سے سب شکوے کرتے ہو۔ میں بہت ساری خوشیاں تمھاری قسمت میں لکھ دیتا ہوں۔


پھر جب ثم مسکراتے ہو اور میرا شکر ادا کرتے ہو


میرے اور قریب ہو جاتے ہو۔ پھر تم کیوں افسردہ ہوتے ہو؟؟


تمہاری کہانی میں تو ابھی خوشیوں کا حصہ بس تھوڑا اور صبر کر لو۔



ایسا نہیں تھا کہ وہ کترانے لگی تھی




 ایسا نہیں تھا کہ وہ کترانے لگی تھی

بس دور ہو گٸ تھی خود سے جڑے لوگوں سے 

جانے کیا ضد تھی کہ ایک جنون سا سوار

ہوا تھا اس پر

پھر ایک دن وہ ہجوم سے کنارہ کر گٸ مگر

حیرت کی بات یہ گزری کہ اسکی

غیر موجودگی کسی پر گراں نہیں گزری

مگر یہ خوش آٸیند بات تھی

وہ چاہتی بھی یہی تھی کہ وہ کسی کو یاد نہ رہے

کوٸ دل اسکی یاد میں نہ تڑپے 

کوٸ آنکھ اسکے غم میں نہ لرزے

کوٸ اشک اسکے لیے نہ گرے

پتا اکثر ایسی کیفیت سے گزر ہوتا ہے کہ اپنے

ارگرد موجود ہر شے بےمعنی سی لگنے لگتی ہے

ہم سوچنے لگتے ہیں ہر بات میں وجہ ڈھونڈنے 

لگتے ہیں اور پھر اپنی ہی لاابالی سوچوں میں کہیں 

غرق ہو کر ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اور ماضی کب حال ہوا کرتا ہے ؟؟

وقت سبھی چیزوں کو بخوبی اپنے ساتھ لے کر ہی چلتا ہے اب جو لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ

وقت  کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو وہ بیچارے 

تو بےسبب ہی روند دیے جاتے ہیں ۔

اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا تھا۔وقت اسے ماضی میں چھوڑ کر خود آگے کی طرف 

گامزن ہوا تھا۔

اور وہ ماضی میں کہیں کھو گٸ تھی

اور جو کھو جاتے ہیں وہ کہاں حاصل ہوتے ہیں پھر۔۔

ماضی تو سب کچھ نگل لیتا ہے 



خدا کرے کہ ندامت نہ ہو کبھی تم کو

 


 خدا کرے کہ ندامت نہ ہو کبھی تم کو

تمھارے وعدے میں سب سے چھپائے پھرتا ہوں




پتا ہے خوبصورتی کی معیاد کتنی ہوتی ہے؟




  پتا ہے خوبصورتی  کی معیاد کتنی ہوتی ہے؟

گنتی کے محض  چند برس 

وہ مدت جس ماوریں کوٸ حسین چہرہ اپنی پوری آب و تاب سے

عروج کی بلندیوں پر اڑتا پھرتا ہے ۔

 نزاکتوں کا پیکر

حسرت بھری نگاہوں کا اسیر 

دیکھنے والے نظر بھر کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں

جسے دیکھ کر وقت تھم جاۓ  نگاہیں پلٹنا بھول جاٸیں

مگر۔۔۔  ۔۔آخر کب تک ؟؟

جب چہرے پر گزرتے وقت کی کڑی چھاپ درج 

ہوتی چلی  جاتی ہے تو  بدنما جھریوں کی صورت دکھنے لگتی ہے ۔

تو رونق رفتہ رفتہ ماند پڑنے لگتی ہے 

وجود کھوکھلا ہوتا چلا جاتا ہے 

اور وہی حُسن کا وقتِ زوال  شروع ہوتا ہے 

پھر نہ   کوٸ آب و تاب باقی رہتی ہے  نہ اٹھتی نگاہیں

نہ کشش ۔نہ ہجوم ۔نہ عروج ۔ نہ ہی وقت

تو یہ طے ہوا کہ حسن اتنی بڑی دلیل نہیں 

جس کے تاقب میں اک عمر لٹا دی  جاۓ



کنفانی کا ایک خط




 کنفانی کا ایک خط


میں شروع سے ہی جانتا تھا کہ ہر محبت ایک ہورہنے والا فراق ہے۔۔۔

میں ہمارے لیے، ہماری محبت کے لیے اور ہمارے خوابوں کے لیے خوف زدہ ہوا کرتا تھا ______ میں نے ہمارے گرد مضبوط چہار دیواری تعمیر کی تاکہ جدائ کا کوئ تیر اس سے پار نہ ہوسکے، تاکہ ہم پر کوئ لعنت فراق نہ آسکے ______ اور ایک دن میں نے دیکھا کہ کچھ تیر میرے جگر کے پار ہوچکے ہیں، میں نے دیکھا کہ ان کا رخ میرے طرف پھیرنے والی تم ہی ہو ______ کاش!! میں نے باہری دشمن کے خوف سے وہ مضبوط احاطہ نہ بنایا ہوتا؛ کیوں کہ میرا واحد دشمن میرے سامنے تھا، وہی جس سے مجھے محبت تھی۔



‏محبت اُس سے کرو جسے پانا ممکن ہو


 ‏محبت اُس سے کرو جسے پانا ممکن ہو۔

اُس سے نہ کرو جس سے خواب میں بھی ملنا ممکن نا ہو۔ کیوں کہ ادھوری محبت انسان کو اکثر آدھا پاگل بنا دیتی ہے۔ اور یہ عمر بھر کی کسی ذہنی اذیت سے کم نہیں ہے۔🔥



یہ مسکراہٹیں، ہنسی مذاق ، motivation والے ڈائیلاگ، یہ سب صرف دکھاوا ہے




 یہ مسکراہٹیں، ہنسی مذاق

، motivation 

والے ڈائیلاگ، یہ سب صرف دکھاوا ہے

 سچ تو یہ ہے کہ ہم سب کہیں نہ کہیں اُکتائے ہوئے ہیں

کوئی خود سے کوئی باقی لوگوں سے

اور کوئی اپنی زندگی سے

اور زندگی سے بیزاری کچھ اس قدر ہے کہ جی بھی نہیں رہے

بس اسے گزار رہے ہیں اور یہ بھی مشکل لگ رہا ہے



اگر الله نے آپ کو رزق کی تنگی دینی ہے تو وہ تب بھی دے دے گا جب آپ کی چار فیکٹریاں ہوں گی-



 اگر الله نے آپ کو رزق کی تنگی دینی ہے تو وہ تب بھی دے دے گا جب آپ کی چار فیکٹریاں ہوں گی- کیا کر لیں گے آپ اگر چاروں فیکٹریز میں ایک ہی وقت آگ لگ جائے- عمارتیں گر جائیں یا کچھ اور ہو جائے- ہم کتنے ہی بند کیوں نہ باندھ لیں، اگر سیلاب کے پانی کو ہم تک آنا ہے تو وہ سارے بند توڑ کر آ جائے گا- اگر ہماری قسمت میں پانی ایک قطرہ لکھا ہے ایک گھونٹ نہیں تو ہم دریا کے کنارے بیٹھ کر بھی ایک قطرہ ہی پی سکیں گے، ایک گھونٹ نہیں



ان سب کے نام جو کہیں کسی کونے میں اپنی سرخ آنکھوں کو مزید رگڑتے ہیں تاکہ اپنے آنسو چھپا سکیں



 ان سب کے نام جو کہیں کسی کونے میں اپنی سرخ آنکھوں کو مزید رگڑتے ہیں تاکہ اپنے آنسو چھپا سکیں 


خود کو کسی اور کی آنکھوں سے دیکھنے کا آرزو مند مت بناؤ ۔۔۔ اٹھو ! اور آئینے میں دیکھو ۔۔۔ تم بے حد مکمل اور خوبصورت ہو ۔۔۔۔ !! بغیر کسی اور سے ستائش کا میڈل وصول کئے 


گر تم ہر وقت اس انتظار میں ہو کہ وقت آئے گا اور سب کچھ ہو جائے گا ۔۔۔ اور اسی انتظار میں تم مزید خود ترسی کا شکار ہوتے جا رہے ہو ۔۔۔ تو دیکھو ! تم لوگوں کو اور حالات کو خود پہ مکمل حاوی کر رہے ہو ۔۔۔ وقت تمہارا انتظار نہیں کرے گا ۔۔۔ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا سیکھو 


لوگوں سے محبت ' پرواہ اور توجہ کی طلب تمہیں مزید بھوکا اور محروم کرتی جائے گی ۔۔۔۔ لوگوں میں محبت بانٹنا سیکھو ۔۔۔۔ اسے بڑھاتے جاؤ ۔۔۔۔ کبھی مانگنا نہیں پڑے گی


سیکھو ! یہ کہ کب کب پرواہ کرنی ہے ۔۔۔ اور کب کب نہیں کرنی ۔۔۔۔ لوگ تمہیں تکلیف دیں تو انھیں بتاؤ ۔۔۔۔۔ وہ پھر بھی تمہیں تکلیف دیں ۔۔۔ تو ان سے کنارہ بہتر ہے ۔۔۔ بغیر کسی شکوے اور نفرت کے ۔۔۔ انسانوں کو انسان ہونے کا مارجن دو ۔۔۔ 


زندگی بے حد مختصر ہے ۔۔۔ اسے روتے ہوۓ مت گزارو ۔۔۔ یعنی تمہارا دل کرے کہ تم کسی گانے پہ ناچ اٹھو تو یہ مت سوچنا کہ سب ہنسیں گے ۔۔۔۔ ہنستے ہوۓ کر گزرو 


تمہیں بھوک لگے اور کچھ کھانا چاہو ۔۔۔ تو اس ڈر سے ہاتھ مت روکو کہ تم اچھے نہیں لگو گے ۔۔۔۔ کسی ہوٹل میں کسی کونے میں بیٹھی کسی لڑکی کو فاقہ زدہ حالت میں دیکھو جب کہ اس کے سامنے ہر طرح کے کھانے پڑے ہوں اور سب لوگ کھا رہے ہوں ۔۔ اسے جا کے بتاؤ کہ وہ بے حد مکمل اور خوبصورت ہے ۔۔۔۔ ! اور ہمیشہ ایسی ہی رہے گی ۔۔۔ !! دیکھنا وہ مسکرا دے گی 


تمہاری ماں نے تمھارے لئے بہت سے خواب دیکھے ۔۔۔ بہت عرصہ اس نے بہت تکالیف اٹھا کے تمہیں پالا ۔۔۔ اس لئے نہیں کہ تم کسی سے لی جانے والی تکلیف کا بدلہ اس پہ چیخ چلا کے نکالو ۔۔۔۔ محبتوں کو محبت دینا سیکھو ۔۔۔۔ 


تم ہمیشہ ہر چیز میں مکمل نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔ خیر ہے ۔۔۔ نامکمل ہونا بھی خوبصورت ہے ۔۔۔ لوگوں سے ہر چیز کی معافی مانگنا اور خود پہ ترس کھانا بند کر دو ۔۔۔۔ 


کوئی بھی تمہیں زندگی کے معنی نہیں بتائے گا ۔۔۔۔ یہ تم ہو جو اپنا سفر خود طے کرو گے ۔۔۔۔ خوش اور زندہ دل لوگ اپنی زندگی کے معنی خود بناتے ہیں ۔۔۔ اور لوگ ان سے زندہ رہنا سیکھتے ہیں ۔۔۔۔ 


!زندہ رہو