Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

ایک آدھ خواب میرا بھی پورا کر دے اے مالک



 ایک آدھ خواب میرا بھی پورا کر دے اے مالک

ہوجاۓ یہ یقیں مجھے، تو خفا نہیں مجھ سے


بہت سادہ ہے وہ اور اُس کی دُنیا میری دُنیا سے سَراسَر مُختلف ہے



 بہت سادہ ہے وہ

اور اُس کی دُنیا 

میری دُنیا سے سَراسَر مُختلف ہے

الگ ہیں خواب اُس کے

زندگی میں اُس کی ترجیحات ہی کچھ اور لگتی ہیں


بہت کم بولتا ہے وہ

مجھے

اُس نے لِکھا ہے

"صُبح،

میں نے لان میں کچھ خُوبصورت پُھول دیکھے

مجھے بے ساختہ یاد آ گئیں تم


مجھے معلوم ہے

میں عُمر کے اُس مَلگجے حصّے میں ہوں

جب میرا چہرہ

کِسی بھی پُھول سے قُربت نہیں رکھتا

مگر جی چاہتا ہے

اُس کی باتوں پر

ذرا سی دیر کو ایمان لے آؤں



عجب لڑکی ہے باتوں سے پھول چنتی ہے


عجب لڑکی ہے باتوں سے پھول چنتی ہے  

خاموشیوں سے نظم بُنتی ہے آنکھوں میں خواب سجاتی ہے دل کو یونہی بہلاتی ہے 

اور پھر ٹوٹ جاتی ہے 


ایک مرتا ہوا شخص س اپنی موت کے دن کیا کیا سوچ سکتا ہے



 ایک مرتا ہوا شخص س اپنی موت کے دن  کیا کیا سوچ سکتا ہے


وہ سوچ سکتا ہے زندگی تو وہ زندگی نا تھی جو جئی 

وہ سوچ سکتا ہے دوائے درد وہ دوا نا تھی جو لی

وہ سوچ سکتا ہے محبت وہ محبت نا تھی جو کی 

وہ سوچ سکتا ہے راحت وہ راحت ناتھی جو لی 

 وہ سوچ سکتا ڈر وہ ڈر نا تھا جو سمجھا 

وہ سوچ سکتا ہےشر وہ وہ شر نا تھا جو سینچا 

وہ سوچ سکتا ہے مروت وہ مروت نا تھی جو خدا سے رکھی

وہ سوچ سکتا ہے عقیدت وہ عقیدت نا تھی جو اپنی رضا سے کی 

وہ سوچ سکتا ہے کہ سوچنا وہ سوچنا نا تھا جو سوچتا رہا

وہ سوچ سکتا ہے کوسنا وہ وہ کوسنانا تھا جو مقدر کو کوستا رہا

وہ سوچ سکتا ہے بعذ از موت حق مل ہی جائے گا

وہ سوچ سکتا ہے تخلیق کا راز کھل ہی جائے گا

وہ سوچ سکتا ہے کار حیات بیکار ہی گئی 

وہ سوچ سکتا ہے محنت دوام لاچار ہی گئی 

وہ سوچ سکتا ہے موت ہی ہے آخر کو زندگی کا خواب 

وہ سوال جو شروع ہوا تھا وقت پیدائش مانند خواب 


سوچے وہ کچھ بھی،ڈرے یا ڈولےبس اس بات کو تولے کہ مابعد الموت خود کو دیکھ لے اگر لیے  سب سوالوں کے جواب تو ٹوٹ نا جائیں وہ خواب جو سرکشی میں بنتا رہا دوران عرصہ حیات ۔



کسی کے خواب تو ہونگے میرے جیسے


 کسی کے خواب تو ہونگے میرے جیسے 

کوئی تو مجھ سا سوچتا ہو گا 

__❤



ہماری خواہشیں تو دل کے باغیچے میں اُڑتی تِتلیاں ہیں



 ہماری خواہشیں تو

دل کے باغیچے میں اُڑتی تِتلیاں ہیں

کہ جن کے رنگ کَچے اور عُمریں مُختصر ہیں



کیا ایسا ہوسکتا ہے



کیا ایسا ہوسکتا ہے

کسی شخص کو کبھی دیکھا نہیں کوئی ملاقات نہ کی ہو مگر اس کے لفظ پڑھ کر اسکی ذات سے عشق ہو جائے؟

....!-"





نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی


 نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی 

نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے 


نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے 

نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے 


تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے 

مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں 


مرے ہم راہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی 

تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں 


تعارف روگ ہو جائے تو اس کا بھولنا بہتر 

تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا 


وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن 

اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا 



اس گول دنیا سے نجانے کیوں مجھے عجب سا خوف آتا ہے ہ



 اس گول دنیا سے نجانے کیوں مجھے عجب سا خوف آتا ہے ہم جس نقطے کو الوداع کرکے رخصت چاہتے ہیں ایک دن اسی مرکز پر واپس موجود ہوتے ہیں 

دراصل ہم کبھی اس نقطے سے آگے بڑھتے ہی نہیں ہیں اور پھر وقت یہ کا اتار چڑھاٶ بھی ہمیں خوش گمانیوں میں کئی برس زندہ رکھتا ہے پر جب ہم آنکھیں وا کیے چاروں اطراف نظریں دوڑاتے ہیں تو ہم ننگے پاٶں اسی مقام پر واپس دھر لیے جاتے ہیں 

ہمارا وہ بویا جس کو کہیں پیچھے چھوڑ کر ہم آگے بڑھے تھے ہمارے سامنے تناور پیڑ کی مانند 

سینہ تانے کھڑا ہوتا ہے 

اور یہ لمحہ وہی ہوتا ہے کہ جب ہمیں دنیا کی گولائی سے نفرت ہونے لگتی ہے 

شدید نفرت



اور ایک دن وہ تھک جائے گا...آپ کے پیچھے بھاگتے بھاگتے



 اور ایک دن وہ تھک جائے گا...آپ کے پیچھے بھاگتے بھاگتے

آپ کا خیال کرتے کرتے... آپ کی فکر کرتے کرتے

اِس لیے نہیں کہ وہ مزید کوشش نہیں کر سکتا.... بلکہ 

اِس لئے کہ "آپ کوشش کی قدر نہیں کرتے