Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

I pray to never grow old

 
I pray to never grow old, to keep that child within me forever, to remain foolish, spontaneous and random, to know the value of the little things, to always show my feelings, to never give up on what I wish, to enjoy the happy moments to the fullest and most of all to always keep believing in miracles.


Consider today, is a new chapter

Consider today, is a new chapter of your life, let go of yesterday's pain, dissapointments and failures, tell yourself I survived what I thought unbeatable, I have overcome so many things and I will do that again and again, write new lines in your story shreded with hope and a promise to never go back to what have saddened your heart, look at yesterday only to avoid some mistakes, and to be able to raise your head and shout: I've always survived.

خدا نگاہیں جمائے ہے جیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا پر

 



خدا نگاہیں جمائے ہے جیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا پر

‏کبھی میں اتنی سہولت سے دیکھتا تھا اُسے



اگر زندگی کے کڑے وقتوں میں تمہاری مسکراہٹ کی ہلکی سی جھلک

 


اگر زندگی کے کڑے وقتوں میں تمہاری مسکراہٹ کی ہلکی سی جھلک بھی دیکھ پاتی تو یہ احساس تک نہ ہوتا کہ غم کسے کہتے ہیں؟

!


امرتا پریتم 


تہوار خوبصورت ہوتے ہیں



 تہوار خوبصورت ہوتے ہیں 

کیونکہ ایک مدت انتظار کروانے کےبعد یہ واپس لوٹ آتے ہیں 

انسان بھی خوبصورت ہوتے ہیں 

لیکن ان میں ایک خرابی ھے

یہ ایک بار زندگی سے چلیں جائیں 

تو پھر ساری زندگی انتظار میں گزار دیں  

یہ پلٹ کر نہیں آتے




ٹوٹے پھوٹے الفاظ



 ٹوٹے پھوٹے الفاظ


پھیلتی رات کے گہرے ہوتے سائے ۔۔ چمکتا چاند۔۔۔

کہیں اِکا دُکا ستارے مگر بہت مدھم سے نہ ہونے کے برابر ہوں جیسے 

ہوا میں نمی سی ہے 

شائد کہیں پھر سے بارش برس رہی ہے 

اور میں یہاں کھلے آسمان کے بیچ و بیچ لیٹی پھر سے کشمکس میں مبتلا ہوں 

کچھ ہے اندر ہی اندر سے بہت بری طرح کاٹ رہا ہے 

کچھ چبھ رہا ہے مگر

اب سوچتی ہوں کہ بس _____ 


اففففف یہ پانی کے ٹپکنے کی آواز بھی عجیب سماع خراشی کا باعث بن رہی ہے 

وہ سامنے دیوار پہ بیٹھی بلی نجانے کسے دیکھ رہی

ہے 

اور یہ پاؤں کا اکھڑا ناخن عجیب سی تکلیف دے رہا ہے سوچتی ہوں اب اسے اکھاڑ ہی پھینکوں

 

تو میں کہہ رہی تھی 


کچھ ہے جو چبھ رہا ہے ،شائد کچھ کِیکر جیسا ہے خاردار جو جڑیں پکڑ رہا ہے اندر ہی اندر 

لیکن بس اب اسے نوچ کر پھینکنا ہے ، مزید نہیں اگنے دینا 

ہے

مگر یہ کیسے ہوگا ، ہو بھی پائیگا یا نہیں!


کہیں ایسا نہ ہو آگے بڑھنے کی کوشش ایک بار پھر سے پیچھے رہ جاؤں، کچھ پا لینے کی خواہش میں ایک بار پھر سے سب کھو دوں اور پھر خالی ہاتھ لیے پھوٹ پھوٹ کر رو دوں؟

 :')


نجانے میں بھی کیا کچھ یہاں ہانکنے لگی ہوں 

 لیکن تم مجھے بتاؤ کبھی محسوس کیا ہے بھلا یہ کہیں بہت پیچھے رہ جانے کا خوف ؟؟

اکیلے رہ جانے کا ڈر 

یا

منزل کے پاس آکر اسے کھونے کا دکھ ؟؟؟



اپنا خیال خود رکھیں ...!!!



اپنا خیال خود رکھیں

...!!!

اتار پھینکیں ماضی کے بوجھ کو ماضی کے بوجھ تکلیف کے سوا کچھ نہ دیں گے ، خود کو صاف رکھیں ، سجا کرکھیں خوکو اچھا کھانا کھلائیں ، خود کو سیر پر لے جائیں 

اکیلے بیٹھ کر اپنے ساتھ انجوائے کریں چائے کے ایک ایک گھونٹ کا لطف محسوس کریں ، ہم کب تک اپنی خوشیوں کے لیے دوسروں کا منہ دیکھیں گے ، اپنی خوبیاں تلاش کریں ، ان کو استعمال کریں 

جو اپنی قدر نہیں کرتا ، لوگ بھی اس کی قدر نہیں کرتے ، جوخود سے محبت نہیں کرتا ، وہ پریشان ہی رہتا ہے 

 آج سے کسی کام کافیصلہ کریں ، خود کو مصروف رکھیں غیبتیں سازشیں منفی سوچ حسد یہ سب سکون چھنے والے عناصر ہیں ، ہر بات اور ہر کام میں ہمیشہ اچھا پہلو ہی تلاش کریں ، پرسکون رہیں۔

خوش رہیں۔



محبت میں کیے جانے والے تمام دعوے اور وضاحتیں وقتی ہوتی ہے


 محبت میں کیے جانے والے تمام دعوے اور وضاحتیں وقتی ہوتی ہے جنہیں سوچ سوچ کر انسان اپنی باقی زندگی بھی جہنم بنا لیتا ہے



" وقت مرہم نہیں ہے "


" وقت مرہم نہیں ہے "


جو کہتا ہے وقت مرہم  ہے وہ جھوٹا ہے ، وہ منافق ہے وہ پاگل ہے 

وقت  مرہم نہیں ہے نورے 

وقت حاکم ہے ، جابر  ہے ظالم  ہے 

 ، فرعون ہے یزید ہے ، وقت  قلت ہے وقت ذلت ہے وقت مرہم نہیں ہے





"دسترس "


وہ میرے ہاتھوں کی دسترس سے

بہت پرے تھا

مَیں جُھک گیا تھا

مگر وہ پھر بھی نشیب میں تھا

اُسے اٹھانے کے واسطے مَیں

اگرچہ اُترا تھا پستیوں میں

مگر وہ میری اَنا کے زینے پہ پاؤں رکھ کے

کُچھ ایسا اُونچا ہوا کہ دیکھو

وہ میرے ہاتھوں کی دسترس میں نہیں رہا ہے