Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

میں چاہتی ہوں کہ.

- میں چاہتی ہوں کہ...!!
میں ہدایت کا چراغ بن جاؤں!! 
دنیا میں کوئی مجھے جانے یا نہ جانے 
لیکن وہاں اوپر ...آسمان میں فرشتے مجھے جانتے ہوں 
مجھ سے محبت کرتے ہوں!! 
اور میرے لئے اللہ سے دعائیں کرتے ہوں!!


کبھی کبھی ہم اتنا تھک جاتے ہیں،

کبھی کبھی ہم اتنا تھک جاتے ہیں،
کہ نماز کے بعد دعا کرنے کی بھی،
ہمت نہیں ہو رہی ہوتی،
اتنا سب کچھ آنکھوں کے سامنے،
چلنا شروع ہوجاتا ہے،
کہ آنسو گرتے رہتے ہیں ،
اور ہم بھیگی ہوئی آنکھوں سے،
اپنے خالی ہاتھوں کو گھورتے رہ جاتے ہیں❤


چائے جیسا کردار ہے میرا

‏چائے جیسا کردار ہے میرا ،،
کسی کو حد سے زیادہ پسند ہوں ،،  
تو کسی کو نام سے ہی نفرت۔۔۔۔


کچھ نیکیاں بھی ہلکے ٹھنڈے میٹھے سے

" کچھ نیکیاں بھی ہلکے ٹھنڈے میٹھے سے گلابی رنگ کی ہوتی ہیں جو کسی کو بتائی نہیں جاتی بس وہ چہروں پر نور بن کر ٹھہر جاتی ہیں رب کی رحمت کا نور....❤️

فرض کرو ہم تارے ہوتے۔۔

فرض کرو ہم تارے ہوتے۔۔

اِک دوجے کو دور دور سے دیکھ دیکھ کر جلتے بُجھتے
اور پھر اِک دن
شاخِ فلک سے گرتے اور تاریک خلاؤں میں کھو جاتے
دریا کے دو دھارے ہوتے
اپنی اپنی موج میں بہتے
اور سمندر تک اس اندھری، وحشی اور منہ زور مسافت
کے جادو میں تنہا رہتے
فرض کرو ہم بھور سمے کے پنچھی ہوتے
اُڑتے اُڑتے اِک دوجے کو چھوتے۔۔۔ اور پھر
کھلے گگن کی گہری اور بے صرفہ آنکھوں میں کھو جاتے!
ابرِ بہار کے جھونکے ہوتے
موسم کے اِک بے نقشہ سے خواب میں ملتے
ملتے اور جُدا ہو جاتے
خشک زمینوں کے ہاتھوں پر سبز لکیریں کندہ کرتے
اور اَن دیکھے سپنے بوتے
اپنے اپنے آنسو رو کر چین سے سوتے
فرض کرو ہم جو کچھ اب ہیں وہ نہ ہوتے


الفاظ کی جنگ لڑنا چھوڑ دی ہے میں نے

الفاظ کی جنگ لڑنا چھوڑ دی ہے میں نے
اب میں ایک تماشائی کی طرح 
لوگوں کے بدلتے ہوئے چہرے دیکھتی ہوں
ان کی حرکات دیکھتی ہوں
وہ کیسے دوسروں کے دلوں سے کھیلتے ہیں
اللہ پاک ہم سب کو ہدایت عطا فرمائیں..!

ایسی وحشت ہے مرے دل میں کہ ہر شے توڑوں

‏ایسی وحشت ہے مرے دل میں کہ ہر شے توڑوں
اور پھر چیخوں کہ دیکھو ، ایسی حالت ہے میری

ایک نوخیر کلی پاؤں میں پھینکوں ، مسلُوں
اور پھر روؤں کہ سمجھو ، یہ اذیت ہے میری


”چابی “



میں نے تمہاری محبت
وقت کے ریپر میں
لپیٹ کر
الماری میں رکھ چھوڑی ہے
الماری کو قفل لگا کر
چابی میں نے گم کر دی ہے
عقل مصلحت کے مصلے پر
دعا گو ہے 
کہ شہر کے سارے کلید ساز
اب چابیاں بنانا بھول جائیں
مگر دل کا وظیفہ ہے
"شہر کے سارے چور سلامت رہیں "


پتا نہیں باقی سب غلط کر رہے ہیں

پتا نہیں باقی سب غلط کر رہے ہیں
یا میں غلط سمجھتی ہوں
یا میں زیادہ سوچتی ہوں ۔۔۔
لیکن پھر میں سوچتی کیا میری سوچ واقعی ہی زیرو ہو گئ ہوئ ہے جو کچھ پازٹیو نہیں لگتا مجھے
پتا نہیں کیا ہو رہا ہے 
کنفیوز ہوتی جا رہی ہو ایک ایک لمحہ میں😔



میں آسمان کی بلندیوں سے ٹوٹ کر گرنے والا وہ ستارہ ہوں

میں آسمان کی بلندیوں سے ٹوٹ کر گرنے والا وہ ستارہ ہوں  جسے چمکنے کی خواہش کے ساتھ تمام تر بے حسی سے زمین کی سمت ایسے پٹخ دیا ہو___

جس کی باقیات کرہ ارض پر بسنے والے کسی شفیق انسان کے ہاتھ لگنے سے پہلے ہی خلا میں ریزہ ریزہ بکھر گئیں ___

کہیں نا ملنے کے لیے ___ کبھی نا سمٹنے کے لیے ___